ساجد رحیم کی کتاب 'اک دیوار گراتا ہوں' سے انتخاب اور چند خیالات

                                  

محبت کی کوئی مقرر تعریف نہیں اور نا ہی اس تجربے سے پنپا کوئی حرف حرف آخر ہے۔ یہ ایک ایسا بھنور ہے جس کا چکر دو طرفہ ہے۔ ایک تو انفرادی اور دوسرا اجتماعی۔ نفسیاتی و تجرباتی حیثیت اسے انفرادی بناتی ہے جیسا کہ جمال احسانی نے کیا خوب کہا:

 

کسی کا حل، کسی کا مسئلہ ہے

محبت اپنا اپنا تجربہ ہے

 

محبت کے بارے میں ایسا معقول خیال بہت کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے مگر یہ شعر آج تک پیش آنے والے تمام محبت بھرے تجربات کو اپنے اندر سمو لیتا ہے۔ اور یہی سمو لینے والی خصوصیت ہی بھنور کے دوسرے پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ وہ یہ کہ انفرادی ہونے کے باوجود ایسا ہے کہ محبت اپنے تمام تجربوں کو ایک مالہ میں موتیوں کی مانند پروتی جا رہی ہے۔ لہزا یہ ایسا بھنور ہے جو اپنے سفر میں آنے والے انسان کو اکھاڑتا چلا جا رہا ہے، جوڑتا چلا جا رہا ہے۔ انہیں انسانوں میں سے ایک انسان، ایک مسافر، ساجد رحیم بھی ہے جو اکھاڑے جانے اور پروئے جانے کہ بعد چمکتا دمکتا دکھائی دیتا ہے۔ بھنور، سفر اور محبت جیسے چند الفاظ میں نے اردو لغت سے مستعار لیے ہیں وگرنہ حقیقت تو یہ ہے کہ زبان ہو یا لسان، احساسات کو بیان کرنے سے قاسر ہے۔


 

کچھ روز قبل ساجد رحیم کی کتاب "اک دیوار گراتا ہوں" پڑھنے کا اتفاق ہوا جو میری ہم جماعت، ایک اچھی دوست، سدرا شاہد نے تحفے میں دی تھی۔ یہ چھوٹی سی کاوش اسی کتاب سے کیے گئے انتخاب اور اس پر چند خیالات کی پیشکش ہے۔ تو بات ایک بھنور کے سفر کی ہو رہی تھی جسے محبت کہا جاتا ہے۔ ساجد رحیم اس سفر میں ایک ایسے مقام پر کھڑے ہو کر پچھلے تمام مراحل کی عقاسی کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ جس مقام پر انسان خود کو بےلوس، بےانعام، بلامعاوظہ، بلاصلہ وقف کر دیتا ہے جہاں سے واپسی معجزہ ہی کہلاتی ہے۔ اس مقام کو ساجد رحیم ان الفاظ و خیالات میں بیان کرتے ہیں:

 

چل جدائی تیری ضرورت تھی

چھوڑ تفصیل میں نہیں جاتے

 

اور

 

پیروں تلے کچل دیا منزل کا ہر نشاں

ہاتھوں سے سنگ میل کی گردن مروڑ دی

 

جو کچھ بیتا بتایا اور جی لیا گیا اس کی تفصیل اور اس کا پتہ دینے والے سنگ میل کو بھلا دینا، رائیگاں کر دینا یا ختم کر دینا، یہ سب کام ایک خاص قسم کے ڈر کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو کہ شاید اس سفر پر چلنے والوں کے ہاں واحد ڈر ہے اور بشمول موت کے ڈر، ہر طرح کے ڈر سے ماورہ ہے۔ اسے مہا ڈر کا نام دیا جا سکتا ہے۔ یہ ڈر اس سفر پر پیچھا کرنے والوں یا طعنہ زنوں کو سراغ مل جانے کا ڈر ہے کہ جس سے بے لوسی کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ اور یہ ٹھیس درد نہیں بلکہ ایک بے بس اذیت و کرب کا سبب بنتی ہے۔ یہ ڈر بلاشبہ تباہی و بربادی کا ڈر ہے۔ اس مرحلے پر انسان اکیلا اور سہما ہوا نظر آتا ہے جسے ساجد نے کچھ اس طرح دکھایا ہے:

 

تھی میری بات کوئی جس پر رو پڑا تھا تو

وہ دن اور آج کا دن، بولنے سے ڈرتا ہوں

اور

 

وگرنہ آج ترا نام جان لیتے سب

میں اپنے زخم کو دھوتے ہوئے اکیلا تھا

 

لہزا، پیروں کے نشاں مٹا کر، کشتیاں جلا کر اپنا ہر اثاثہ کچھ اس طرح ہتھیلی پر رکھا جاتا ہے جیسا ساجد کہتے ہیں کہ:

 

سخن میں جتنی بھی عزت کمائی ہے

ترے غم کی ہتھیلی پر دھری ہے

 

یہ سفر بےشک اپناآپ وقف و تمام کرنے کا سفر ہے مگر اس میں کمائی جانے والی سوغات طلسمی ہے جو نفسیات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ سوغات ایک سرمدی رنگ ہے جو کبھی اترتا نہیں ہے۔ یہ رنگ اگر رائیگانی کا ہے تو انسانی زمین پر اسکی ہمیشہ زندہ بچنے والی قبریں اور کتبے بن جاتے ہیں جو کسی کے ہونے کا ساغ دیتے رہتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ کوئی آنکھوں سے اوجھل ہو جائے تو خیال کی آنکھوں سے بھی بے دخل ہو جاتا ہے بلکہ ساجد رحیم کے مطابق:

 

آنکھوں سے بے دخل کئے جائیں جو سپنے

دل میں ان کی قبریں دیکھی جا سکتی ہیں


مزید برآں، یہ سرمدی رنگ ایسا نقش ہے جو کبھی مٹایا نہیں جا سکتا۔ نفسیات کا بنیادی اصول ہے کہ جو چیز ایک بار ذہن پر نقش ہو جائے وہ کبھی ختم نہیں کی جا سکتی بلکہ گہے گہے حوالوں کے ساتھ ابھرتی رہتی ہے۔ بھنور کی ابتداء میں ایک رنگ کا بطور داغ لگنا اور پھر سفر کے چلتے گزرتے اسکا سرمدی ہو جانا انسان کو نفسیاتی لحاظ سے امر کر دیتا ہے۔ اس مقام پر صلہ یہ ملتا ہے کہ انجام محبت ملنا نا بھی ہو، انسان ایسا اپنا نقش چھوڑ جاتا ہے جو کہ اس کو محبت کا حوالہ بنا دیتا ہے۔ ساجد رحیم کے ہاں یہ صورت حال کچھ ایسی ہے

 

مجھے معلوم ہے تم کو محبت پھر بھی ہونی ہے

مگر جب بھی ہوا ایسا، حوالہ میں ہی ٹھہروں گا

 

یہ مقام و انعام، یہ مرتبہ بلاشبہ کسی اور مرتبے سے کم نہیں کہ جہاں سے انسان کے اندر ایک 'انسان' جنم لے رہا ہوتا ہے جو کہ صرف اور صرف محبت کی اولاد ہے اور اس سے آگے بھی محبت ہی جنم لے گی۔ بس کچھ اسی طرح محبت کی دنیا اپنے آپ میں اجتماعی اور دوسری یا باہر کی دنیاوں سے میں انفرادی ہے اور رہے گی۔

 

سعود حنیف

Comments

Popular posts from this blog

The Things/Feelings, I Think, I Believe In

Miniaturizing Mini Corona

A Travelling Letter