ساجد رحیم کی کتاب 'اک دیوار گراتا ہوں' سے انتخاب اور چند خیالات
محبت کی کوئی مقرر تعریف نہیں اور نا ہی اس تجربے سے پنپا کوئی حرف حرف آخر ہے۔ یہ ایک ایسا بھنور ہے جس کا چکر دو طرفہ ہے۔ ایک تو انفرادی اور دوسرا اجتماعی۔ نفسیاتی و تجرباتی حیثیت اسے انفرادی بناتی ہے جیسا کہ جمال احسانی نے کیا خوب کہا: کسی کا حل، کسی کا مسئلہ ہے محبت اپنا اپنا تجربہ ہے محبت کے بارے میں ایسا معقول خیال بہت کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے مگر یہ شعر آج تک پیش آنے والے تمام محبت بھرے تجربات کو اپنے اندر سمو لیتا ہے۔ اور یہی سمو لینے والی خصوصیت ہی بھنور کے دوسرے پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ وہ یہ کہ انفرادی ہونے کے باوجود ایسا ہے کہ محبت اپنے تمام تجربوں کو ایک مالہ میں موتیوں کی مانند پروتی جا رہی ہے۔ لہزا یہ ایسا بھنور ہے جو اپنے سفر میں آنے والے انسان کو اکھاڑتا چلا جا رہا ہے، جوڑتا چلا جا رہا ہے۔ انہیں انسانوں میں سے ایک انسان، ایک مسافر، ساجد رحیم بھی ہے جو اکھاڑے جانے اور پروئے جانے کہ بعد چمکتا دمکتا دکھائی دیتا ہے۔ بھنور، سفر ...